Wednesday, March 30, 2016

بارھویں محفل نجف میں آپ کی ہے فاطمہ

تو یقینً حِصّئے پیغمبری ہے فاطمہ
زوجئے شیرِ خدا جانِ نبی ہے فطمہ
جس وصیلہ سے دعائیں ہیں ہماری مستجاب
کبریا کے نور کی وہ روشنی ہے فاطمہ
اے محمد ظنز کرتے ہیں جو ان  کے واستے
ہر زمانہ میں جوابِ ابتری ہے فاطمہ
چاہے بیٹی چاہے زوجہ چاہے رتبہ ماں کا ہو
تیرے ہر کردار میں شائستگی ہے فاطمہ
یہ حقیقت صرف جانے مرتضی یا مصطفی
دینِ حق کے واستہ کیوں قیمتی ہے فاطمہ
مرتبہ امّ ابیہہ کا زمانہ جان لے
اپنی گودی میں امامت پالتی ہے فاطمہ
کیا نمازی کی دعا یوں ہی قبول ہو جائگی
بِاالیقیں تیرا وصیلہ لازمی ہے فاطمہ
دے کے خطبہ شان سے وہ بھرے دربار میں
کیسے حق حاصل کرے یہ جانتی ہے فاطمہ
کیوں نہ ہو رب کا کرم ابرار پر جس کے سبب
بارھویں محفل نجف میں آپ کی ہے فاطمہ
منقبت ذیشان کی منظور کر لے اے خدا
مجھ کو لگتا ہے خدا سے کہہ رہی ہے فاطمہ

Sunday, March 27, 2016

باروے دور میں اب ہوگی ثنائے زہرا part2

باروے دور میں اب ہوگی ثنائے زہرا
چاند تارو سے مکاں اپنا سجائے زہرا
ہر محب سالگرہ تیری منائے زہرا
یہ عدد سال کا منسوب تو مھدی سے ہے
باروے دور میں اب ہوگی ثنائے زہرا
معرفت اپنے خدا کی ہوئی کس کو کتنی
جشن ہر سال تیرا آکے بتائے زیرا
قبل آمد کے ترے سورئے کوثر دیکھو
شادمانی کی خبر عرش سے لائے زہرا
ننگے سر اجرِ رسالت ادا کرتی ہو
کیا تمھیں یاد نہیں کیا ہے ادائے زہرا
شرک سے دور رہے ہم تو شفاعت ہوگی
ورنہ امیّد نہیں ہم کو بچائے زہرا
میرے ایماں کے لئے جملہ یہی کافی ہے
یا علی کہتا ہوں میں کہتا ہوں ہائے زہرا
خلق خالق نے کیا مجلس و ماتم کے لئے
ہم عزادار ہیں  دراصل دعا ے زہرا
معرفت ہو تو عبادت ہے خدا کے نزدیک
یوں ہی راضی نہیں ہوتا ہے خدا ے زہرا
ہم پہ تھوڑی سی عنایت تیری گر ہو جائے
حمدُقرآن کی محفل بھی کرائے زہرا
کیوں نہ فریاد مسلماں سے کرے ہر لمحہ
دیکھ لے آج بھی ویران ہے جائے زہرا

انجمن قوم کی چلتی ہے بنا رہبر کے
اس لئے غم یہ میرے دل کو رولائے زہرا
کوئی اخباری اگر طنز نہ کرنے آئے
گھر میں میرے بھی  بچھے فرشِ عزائے زہرا
دل میں ذیشان کے محشر کا اگر ڈر نہ ہو
پیسہ پانی کی طرح وہ بھی بہائے زہرا
    

باروے دور میں اب ہوگی ثنائے زہرا

باروے دور میں اب ہوگی ثنائے زہرا
چاند تارو سے مکاں اپنا سجائے زہرا
ہر محب سالگرہ تیری منائے زہرا
یہ عدد سال کا منسوب تو مھدی سے ہے
باروے دور میں اب ہوگی ثنائے زہرا
معرفت اپنے خدا کی ہوئی کس کو کتنی
جشن ہر سال تیرا آکے بتائے زیرا
قبل آمد کے ترے سورئے کوثر دیکھو
شادمانی کی خبر عرش سے لائے زہرا
ننگے سر اجرِ رسالت ادا کرتی ہو
کیا تمھیں یاد نہیں کیا ہے ادائے زہرا
شرک سے دور رہے ہم تو شفاعت ہوگی
ورنہ امیّد نہیں ہم کو بچائے زہرا
میرے ایماں کے لئے جملہ یہی کافی ہے
یا علی کہتا ہوں میں کہتا ہوں ہائے زہرا
خلق خالق نے کیا مجلس و ماتم کے لئے
ہم عزادار ہیں  دراصل دعا ے زہرا
معرفت ہو تو عبادت ہے خدا کے نزدیک
یوں ہی راضی نہیں ہوتا ہے خدا ے زہرا
ہم پہ تھوڑی سی عنایت تیری گر ہو جائے
حمدُقرآن کی محفل بھی کرائے زہرا
کیوں نہ فریاد مسلماں سے کرے ہر لمحہ
دیکھ لے آج بھی ویران ہے جائے زہرا

انجمن قوم کی چلتی ہے بنا رہبر کے
اس لئے غم یہ میرے دل کو رولائے زہرا
دور اللہّ سے شیطان اگر نہ کردے
میں بھی جاؤنگا جہاں ہوگی عزائے زہرا
دل میں ذیشان کے محشر کا اگر ڈر نہ ہو
پیسہ پانی کی طرح وہ بھی بہائے زہرا