Sunday, March 27, 2016

باروے دور میں اب ہوگی ثنائے زہرا part2

باروے دور میں اب ہوگی ثنائے زہرا
چاند تارو سے مکاں اپنا سجائے زہرا
ہر محب سالگرہ تیری منائے زہرا
یہ عدد سال کا منسوب تو مھدی سے ہے
باروے دور میں اب ہوگی ثنائے زہرا
معرفت اپنے خدا کی ہوئی کس کو کتنی
جشن ہر سال تیرا آکے بتائے زیرا
قبل آمد کے ترے سورئے کوثر دیکھو
شادمانی کی خبر عرش سے لائے زہرا
ننگے سر اجرِ رسالت ادا کرتی ہو
کیا تمھیں یاد نہیں کیا ہے ادائے زہرا
شرک سے دور رہے ہم تو شفاعت ہوگی
ورنہ امیّد نہیں ہم کو بچائے زہرا
میرے ایماں کے لئے جملہ یہی کافی ہے
یا علی کہتا ہوں میں کہتا ہوں ہائے زہرا
خلق خالق نے کیا مجلس و ماتم کے لئے
ہم عزادار ہیں  دراصل دعا ے زہرا
معرفت ہو تو عبادت ہے خدا کے نزدیک
یوں ہی راضی نہیں ہوتا ہے خدا ے زہرا
ہم پہ تھوڑی سی عنایت تیری گر ہو جائے
حمدُقرآن کی محفل بھی کرائے زہرا
کیوں نہ فریاد مسلماں سے کرے ہر لمحہ
دیکھ لے آج بھی ویران ہے جائے زہرا

انجمن قوم کی چلتی ہے بنا رہبر کے
اس لئے غم یہ میرے دل کو رولائے زہرا
کوئی اخباری اگر طنز نہ کرنے آئے
گھر میں میرے بھی  بچھے فرشِ عزائے زہرا
دل میں ذیشان کے محشر کا اگر ڈر نہ ہو
پیسہ پانی کی طرح وہ بھی بہائے زہرا
    

No comments:

Post a Comment

Your comments are appreciated and helpful. Please give your feedback in brief.