Wednesday, May 25, 2016

Gul hoti hui sham e tamanna ko jila

Ya Sahibuz Zamaan (atfs)

Gul hoti hui sham e tamanna ko jila
 
1. Insaan ki fitrat ko  yu shaitaan hawa de
Har sarkash e islaam ko jeene ka maza de
2. T.V se Mobile se inhe waqt kaha hy
Bachcho ko khuda aisi balao se bacha de
3. Asha'ar-e-aqeedat ko raqam karne se pahle
Quran se ay sheikh aqeede ko saja de
4. Ek baap pe wazib hy ke bete ko bitha kar
Qaim(as) ke bataye huwe aqwaal padha de
5. Murtad huwe jate hy har ek qaum ke baasi
Ab mere khuda lashkare mehdi ko bana de
6. Jo log samajhta hy hidayat pe hami hy
Quran ke waris unhe quraan suna de
7. Emaa'n nazar aata nahi dunya me kahi par
Nazro ko meri jalwa e emaan dekha de
8. Salwaat ki aawaz uthe jashn me aise
Soyee huwe Momin ka muqaddar jo jaga de
9. Kar khatm ye duniya ke masael to bahut hain
Ab thoda bahut shaan me mehdi ke suna de
10. Allah hame aaj duaoo'n ka sila de
Ab parday e gaibat ko zamane se hata de
11. Ab jalwa e mahdi hame Allaah dekha de
Gul hoti hui sham e tamanna ko jila de
12. Narjis ke gulistaa'n me gulab aisa khila hy
Chubhte huwe kaanto'n ko jo gulzar bana  de
13. Hy aaj wiladat mere maula ki jaha me
Ay saqi mujhe jaam e wila aa ke pila de
14. Aamaal agar neema e shaban me karle
Aamil ko amal kiyo na ibadat ka maza de
15. Gaibat me imamat ka karam aise hy jaise
Duniya ko pas e abr bhi khurshid ziya de
16. Mil jaye agar izne khuda mahdiye dee'n ko
Zalim ke har ek zulm ki bunyaad hila de
17. Mauood agar ghaiz me aa jaye khuda ka
Har dushman e islam ki hasti ko mita de
18. Ay ibne hasan askari talwaar utha kar
Zalim ki banayee huwee sarkaar gira de
19. Muddat se tamanna ye mere dil me rahi hy
Mahdi ka ay Allah tu deedar kara de
20. Zeeshan ne Qaim(as) ka qasida jo likha hy
Har sher pe mabood use khoob jaza de
✍ Zeeshan Azmi

Sunday, May 22, 2016

QATA-E-TASHTEER

🌹🌹QATA-E-TASHTEER🌹🌹

🌹Sarfaroshi ki tamanna Ya Ali(as) ye dil me hy

🌹Ay khuda ek baar phir islaam mushkil me hy

🌹Band kar sar par kafan Mahdi (as)  ke lashkar aa gaye

🌹Dekhna hy zor kitna bazoo e qatil me hai

🌹 Aa gaya hy haq bahane har khayal e na rawa

🌹Dekhna hy kitni quwwat  kharman e batil me hy

- Zeeshan Azmi

Tashteerat


مختارؔ یوسفی کی تشطیرات کا مجموعہ ''دو کے چار'' پراک نظر

(Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)

مختارؔ یوسفی شہر مالیگاؤں کے وہ زندہ دل اور کہنہ مشق شاعر ہیں جن کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ موصوف مشاعروں کی دنیا ہر دل عزیز اور مقبول شاعر ہیں۔ جنھیں طنزیہ و مزاحیہ شعری ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ موصوف کی رسائی آل انڈیا مشاعروں تک محدود نہیں ہے بل کہ آں جناب کو بین الاقوامی مشاعروں میں بھی بڑے ذوق و شوق سے سنا اور سراہا جاتا ہے۔ موصوف اپنے عمیق مشاہدے اور وسیع تجربات کی روشنی میں معاشرتی و سیاسی اتھل پتھل کو بڑی کامیابی سے اپنے اشعار میں سمونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔کہاجاتا ہے کہ مزاح کا تعلق براہ راست زندگی سے ہے ، اسی طرح طنز کا بھی معاملہ ہے۔ طنز و مزاح دونوں کی ہماری زندگی میں کافی اہمیت ہے ۔ لیکن یہ عمل اگر کسی کی دل شکنی کرتے ہوئے ہلکے پھلے مزاح سے نکل کر قہقہوں کی بارش میں بدل جائے تو اسے ناپسندیدہ کہا جائے گا کیوں کہ ادب چاہے وہ سنجیدہ ہو یا طنزیہ و مزاحیہ اُس کا مقصد تعمیر حیات اور تفریح طبع ہے نہ کہ دل شکنی۔ اگر طنز و مزاح کے ذریعہ محض تفنن طبع نہ کرتے ہوئے لوگوں کی اصلاح کا کام بھی لیا جائے تواسے قابل تحسین قرار دینا غیر مناسب نہ ہوگا ۔ 

مختارؔ یوسفی کی شاعری میں مزاح کے جِلو میں طنز و نشتریت کے جو کاٹ دار وار ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں ان میں کہیں بھی کسی کی بے جا دل شکنی کا شائبہ نظر نہیں آتا ۔ انھوں نے اپنی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے وسیلے سے لوگوں کو ہنسنے ہنسانے کے ساتھ اصلاحِ مفاسدکا کام بھی لیا ہے۔ جس کا نظارا موصوف کے اولین مجموعے ''دکھتی رگ'' میں کیاجاسکتا ہے۔

آج کا عالمی شعری منظر نامہ سہل پسندی سے عبارت ہوتا جارہا ہے۔ جہاں پابند نظمیہ شاعری کی بجاے آزاد غزل اور آزاد نظم کو محبوب و مرغوب تصور کیا جارہا ہے۔ ایسے عالم میں پابند اورہیئت و تیکنک کے لحاظ سے فنّی ضابطوں میں محصور کسی متروک صنف یا صنعت میں طبع آزمائی کرنا یقینا ایک نمایاں کام ہے۔ ۲۰۰۵ء میں ناچیز کا ایک رسالہ ''اردو کی دل چسپ اور غیر معروف صنعتیں '' شائع ہوا تھا جس میں اردو کی صنعتی شاعری سے ۴۰؍ دل چسپ اور غیر معروف بل کہ متروک صنعتوں کو مع مثالوں کے پیش کیاگیاہے۔ اُن صنعتوں میں سے ایک ''تشطیر'' پر مجھے مثالیں نہ مل سکیں تو مَیں نے خود ایک شعر پر تشطیر لگائی، جو اس طرح ہے ؎
شعر ازامام احمدرضا بریلوی:
اے رضاؔ ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھی آرام ہوہی جائے گا
تشطیرِ مشاہدؔ :
''اے رضاؔ ہر کام کا اک وقت ہے''
دور دامن فکر کا ازدست ہے
کام تیرا عام ہوہی جائے گا
''دل کو بھی آرام ہوہی جائے گا''

بعد ازاں میرے ذوقِ شعری نے مجھے مہمیز لگائی تو صنعت تشطیر پر مشتمل تقدیسی شاعری کا ایک مجموعہ ''تشطیرات بخشش'' منظر عام پر آگیا ۔ جسے مذکورہ صنعت پر محیط شہر ادب مالیگاؤں کا اولین شعری مجموعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ 

آج ہم ''دو کے چار' ' نامی مختارؔ یوسفی صاحب کے جس شعری مجموعے کی تقریبِ رونمائی میںشریک ہیں ۔ یہ اسی صنعتِ تشطیر پر مبنی ہے۔ موصوف اس سے قبل تضمینات کے میدان میں اپنے قلم کا جادو جگا چکے ہیں ۔ مشہور و معروف مصرعوں پر اِن کی تضمینیں قدر کی نگاہوں سے دیکھی جاتی ہیں۔ پیش نظر کتاب ''دو کے چار'' تشطیرات '' کا مجموعہ ہے ۔ تشطیر کے لغوی معنی چیرنا ہے اصطلاحِ ادب میں ''جب شاعر کسی شعر کے دومصرعوں کے بیچ میں موضوع سے ہم آہنگ مزید دو تضمینی مصرعوں کا اضافہ کرتا ہے تو اُس صنعت کو ''صنعتِ تشطیٖر'' کہتے ہیں۔''

تشطیر کا عمل تضمین سے خاصا مشکل ہے۔ تضمین میں کسی مصرعے سے پہلے تین مصرعے یا کسی مصرعے پر اپنا ایک مصرع لگانا ہوتا ہے ، جب کہ تشطیر میںدومصرعوں کے بیچ مزید دومصرعے نظم کرنا ہوتے ہیں ۔ 

عام طور پر اس کے دو طریقے رائج ہیں ۔ پہلا طریقہ یوں ہے کہ کسی شعر کے پہلے مصرع پر ایسا مصرع لگادیا جائے جو اصل شعر کے دوسرے مصرع کے ہم قافیہ و ردیف ہو۔ اور دوسرے مصرعے پرردیف و قافیے کا لحاظ رکھے بغیر مصرع لگادیا جائے ۔ بالکل اس طرح کہ ایک جیسے ردیف و قافیے کے دو اشعار وجود میں آجائیں ۔ مثال کے طور پر مختارؔ یوسفی کی یہ تشطیر ؎ 
شعرازامیر الاسلام ہاشمی:
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہے
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
تشطیرِ مختارؔ:
''جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہے''
اس کو بھی بصد شوق سے نگل جاتا ہے مومن
دو نمبری دھندوں سے بھی مل جائے تو مختارؔ
ــ''وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومنـ''

جناب مختارؔ یوسفی کی جملہ تشطیرات اسی فارم میں لکھی گئی ہیں۔ زیادہ تروہ شعرا جنھوں نے تشطیر قلم بند کی ہے اِسی طریقے پر عمل کرتے رہے ہیں ۔ جب کہ اِس کا دوسرا طریقہ بھی ہے جو بہ نسبت پہلے طریقے کے خاصا مشکل ہے وہ یہ کہ کسی شعر کے پہلے مصرعے پر دوسرامصرع لگا کر اُسے ایک مطلع کی شکل دے دی جائے اوردوسرے مصرعے پر پہلا مصرع بھی اس طرح لگایا جائے کہ وہ بھی مطلع بن جائے اس طرح کسی شعر کے دومصرعوں کے بیچ اس طرح دومصرعے رکھے جائیں کہ دو مطلعے وجود میں آجائیں۔ مثال کے طورپر ناچیز کی ایک تشطیر ؎
شعر از امام احمدرضا بریلوی:
غور سے سن تو رضاؔ کعبے سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے مرے پیارے کا روضہ دیکھو
تشطیرِ مشاہدؔ:
''غور سے سن تو رضاؔ کعبے سے آتی ہے صدا''
حجِّ مبرور کا اب ہوگیا ارماں پورا
جاؤ تسکیں دہِ دل گنبدِ خضرا دیکھو
''میری آنکھوں سے مرے پیارے کا روضہ دیکھو''

اس قسم کی تشطیرات شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہیں ۔ ناچیز کا مجموعہ ''تشطیراتِ بخشش'' اسی ہیئت پر لکھی ہوئی تشطیرات پر محیط ہے۔ جو کہ تقدیسی شاعری نعت و منقبت کے حوالے سے ہے۔ 

مختارؔ یوسفی نے اپنی تضمین نگاری کی طرح تشطیر نگاری میں بھی ذوقِ مزاح کو ہی مطمحِ نظر بنایا ہے جو ان کا خاص مزاج ہے۔ ''دو کے چار'' میں آپ نے معروف و غیر معروف اشعار پر کافی اچھی اور بہترین تشطیر قلم بند کی ہے ۔ اس مجموعۂ تشطیرات میں شامل بعض تشطیرات مزاحیہ انداز کے ساتھ ساتھ سنجیدگی و متانت کا حُسن بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جب کہ بعض تشطیرات کی زیریں لہروں میں اصلاحِ معاشرہ کی مدھم مدھم لَے بھی پنہاں دکھائی دیتی ہے۔ مزید یہ کہ اس مجموعہ میں نعت جیسی بابرکت و باعظمت صنف میں بھی ۱۶؍ خوب صورت اور دل کش تشطیرات جگمگارہی ہیں ۔ جو کہ خالدؔعرفان خالد کے اشعار پر ہیں ۔مختارؔ صاحب کی نعتیہ تشطیرات میں سے دو نشانِ خاطر فرمائیں ؎
شعراز خالدؔ عرفان خالد:
یہ سوچ کر مرے آقا نے کھائے تھے پتھر
وہ جانتے تھے کہ جذبات پتھروں کے بھی ہیں
تشطیرِ مختارؔ: 
''یہ سوچ کر مرے آقا نے کھائے تھے پتھر''
زمانہ جان لے محسن وہ کافروں کے بھی ہیں
بتاؤں راز تمہیں ان کے زخم کھانے کا
''وہ جانتے تھے کہ جذبات پتھروں کے بھی ہیں''
شعراز خالدؔ عرفان خالد: 
اُن کو آدم سے بھی پہلے کیا رب نے تخلیق
ایک لمحے میں وہ پوشیدہ صدی رکھتے تھے
تشطیرِ مختارؔ:
''اُن کو آدم سے بھی پہلے کیا رب نے تخلیق''
خود میں پوشیدہ وہ دنیائیں کئی رکھتے تھے
لوگ حیران ہیں معراج کو پانے کے لیے
''ایک لمحے میں وہ پوشیدہ صدی رکھتے تھے''

مختارؔ یوسفی صاحب کا شناخت نامہ چوں کہ طنز و مزاح سے ہے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تشطیرات کے جوہر بھی طنزیہ و مزاحیہ انداز میں بکھیرے ہیں جیسا کہ میں نے اوپر یہ لکھا ہے کہ موصوف کے یہاں طنز ومزاح کے جلو میں اصلاحِ مفاسدکاانداز بھی پایا جاتا ہے ۔ موصوف کایہ کمالِ شعری ہے کہ وہ ہنستے ہنساتے ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ قہقہہ زار محفل ایک پل میں سنجیدہ بن جاتی ہے اور لوگ اشعار کے اندرون میں جو معنویت پوشیدہ ہے اس میںگُم جاتے ہیں۔ ذیل میں مختلف رنگوں کی چند تشطیرات ملاحظہ کریں ؎
شعر از منور رانا:
بڑی بے چارگی سے لوٹتی بارات تکتے ہیں
بہادر ہوکے بھی مجبور ہوتے ہیں دلہن والے
تشطیرِ مختارؔ:
''بڑی بے چارگی سے لوٹتی بارات تکتے ہیں''
نہ جانے کب سدھر پائیں گے یہ اپنے وطن والے
ہزاروں عیب دولہے میں مگر خاموش ہے سمدھی
''بہادر ہوکے بھی مجبور ہوتے ہیں دلہن والے''
شعر از امیرالاسلام ہاشمی:
گم جس میں ہوا کرتا تھا آفاق وہ مومن
مینڈک کی طرح اب کسی تالاب میں گُم ہے
تشطیرِ مختارؔ:
''گم جس میں ہوا کرتا تھا آفاق وہ مومن''
اب اونچی اڑانوں کے کسی خواب میں گُم ہے
خود اس کے عمل ہی نے بلندی سے گرایا
''مینڈک کی طرح اب کسی تالاب میں گُم ہے''
شعر ازمرزا شکور بیگ:
میرے بیٹے کو حقارت سے نہ دیکھو صاحب
کیا عجب کل کو یہی آپ کا داماد بنے
تشطیرِ مختارؔ:
''میرے بیٹے کو حقارت سے نہ دیکھو صاحب''
عین ممکن ہے منسٹر کا وہ استاد بنے
نوجواں آپ کی نظروں میں بہت سے ہوں گے
''کیا عجب کل کو یہی آپ کا داماد بنے''
شعرنامعلوم: 
فٹ پاتھ کے فقیر نے مانگی ہے یہ دعا
ان بھارتی وزیروں کے بنگلے سپاٹ کر
تشطیرِ مختارؔ: 
''فٹ پاتھ کے فقیر نے مانگی ہے یہ دعا''
مولا! مجھے بھی اچھا سا بنگلہ الاٹ کر
جو آج اڑ رہے ہیں ہوائی جہاز میں
''ان بھارتی وزیروں کے بنگلے سپاٹ کر''

مختصر یہ کہ مختارؔ صاحب کی تشطیرات کا مجموعہ'' دو کے چار'' اسی طرح مختلف رنگوں کی تشطیرات سے مزین ہے ۔اس سہل انگاری کے دور میں صنعتِ تشطیرجیسی مشکل اور متروک صنف پر کامیاب طبع آزمائی کرتے ہوئے ایک مکمل مجموعے کا اضافہ کرنے پر میں جناب مختارؔ یوسفی صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔مزید دوہری مبارک باد اس بات کی کہ اس کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم جناب پیامؔ انصاری اور جناب بدالدین بادلؔکی اردو خدمات کے اعتراف میں بہ طور نذرانہ پیش کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے جو قابلِ تعریف ہے

Monday, May 16, 2016

Darya pe alamdar ka qabza hai abhi tak

🌹1. Chaudah so baras ho gaye saqqa hy abhi tak
Chullo me uthaye huwe darya hy abhi tak

🌹2. Saqqa e sakina ki sabeelo ko lagana
Hum ahle aza par bada qarza hy abhi tak

🌹3. Abbas ke chullu ke har ek aab ka qatra
Ghut ghut ke samander me wo marta hy abhi tak

🌹4. Be tegh jo abbas ne mara hy la'ee'n ko
Nazro me qayamat ka wo lamha hy abhi tak

🌹5. Parcham ke qaree'n aa nahi sakta koi dushman
Abbas ka kheencha huwa naqsha hy abhi tak

🌹6. Haato'n ko qalam karne se jukta nahi parcham
Abbas ka mansoor pharera hy abhi tak

🌹7. Abbas me bandha tha jo mashkiza alam par
Kya shaan se parcham me wo lipta hy abhi tak

🌹8. Ta hashr bina haato'n ke lahraega parcham
Abbas alamdari me yakta hy abhi tak

🌹9. Shayer tujhe sajde ka koi ilm nahi hy
Sajde ki ibaarat se tu khela hy abhi tak

🌹10. Kahti hy badi shaan se darya ki rawani
Darya pe alamdar ka qabza hai abhi tak

🌹11. Zalim ke har ek zulm ko moqoof jo kar dey
Zeeshan wo Abbas me nuqta hy abhi tak

✍ zeeshan aazmi

Saturday, May 14, 2016

Bhaari hy fauje shaam par asgar hussain ka

✴✴786/92/110✴✴

✴ Bhaari hy fauje shaam par asgar hussain ka✴

🌹Tareekh likh gaya hy wo lashkar hussain ka
Aalam ko dars deta hy mimbar hussain ka

🌹Padhta namaz kiyo nahi aashiq hussain ke
Aazaa'n de chuka tujhe akbar hussain ka

🌹Quraan mit sakega zamaane se kya bhala
Jab tak sena pa hy sar e athar hussain ka

🌹Aa dekh le yazid teri haar ka maza
Elaan e fatha hota hy ghar ghar hussain ka

🌹Likhta hy sher apni jo tahzeeb chod kar
Momin nahi hy aur na wo Shayer Hussain ka

🌹Dee'n par shahid hone ka jazba hazar hy
Lashkar na dekha aisa bahattar hussain ka

🌹Fanoos ban ke kufr ka uththe agar koi
Usko zaleel karta hy dawar hussain ka

🌹Kiyokar karega jang bradar hussain ka
Bhaari hy fauje shaam par asgar hussain ka

🌹Kiyo dil gam e hussain me dhadke na hashr tak
Zeeshan ban gaya hy sukhanwar hussain ka

✍ zeeshan aazmi

Sabr hai Shabbir uska tarjuma Abbas hy

✴Sabr hai Shabbir uska tarjuma Abbas hy✴

🌹Sar zameen e karbala ka mojeza Abbas hy
Gaad ke dee'n ka alam gaazi bana Abbas hai

🌹Chodh kar darya ko bhage deen ke dushman sabhi
Cha gaya tha ran me jo wo dabdaba Abbas hai

🌹Ye logat se karbala ki ho gaya zahir hame
Sabr hai Shabbir uska tarjuma Abbas hai

🌹Bargaah e rab me kyo na manqabat hogi qabool
Madha ka zeeshan teri qafia Abbas hai

✍ zeeshan aazmi

Tuesday, May 10, 2016

Shabbir aagaye hai alamdar chahiye

🌹1. Deen e khuda ko aaj madadgaar chahiye
Qayem imam e asr ki sarkaar chahiye

🌹2. Batil khayal phir se zamane me aa gaye
Ab shayeri ko hamd ke Ashaar chahiye

🌹3. Zahar e dagha ugal diya fanoos e deen ne
Ab mimbar e rasool ka haqdaar chahiye

🌹4. Shaitan ke shikanje me apne hi phans gaye
Bhai ko aaj bhai wafadaar chahiye

🌹5. Tayyar ho gaya hun qasidey ke waste
Mujh par khuda ka lutf lagataar chahiye

🌹6. Aaqa ke sath sath wafadaar chahiye
Ibne Ali ko fauj ka sardar chahiye

🌹7. Ibne Ali ka jashn manane ke wasate
Mehfil me bas durood ki bochaar chahiye

🌹8. Jab manqabat hussain ki aa jaye samane
Har ek zameer sunne ko bedaar chahiye

🌹9. Khamosh hy zamaana burayee pa har jagah
Haq bolne ko misam e tammar chahiye

🌹10. Pamaal kar rahe hy jo maqsad hussain ka
Unke zawaal ke liye mukhtaar chahiye

🌹11. Is daur ke yazid ka takhta palat de jo
Duniya me ek aisa azadaar chahiye

🌹12. Ghera hy har taraf se hukumat ne deen ko
Phir aaj ibne hydar e qarrar chahiye

🌹13. Bhai ka pyar kaisa ho bhai se is liye
Abbas aur Hussain ka shahkaar chahiye

🌹14. Bazar e bot parast me hame ek baar phir
Khushnodiy e khuda ka kharidaar chahiye

🌹15. Ta hashr jo uthaye bina haath ke alam
Mojiznuma jaha'n ko woh jarrar chahiye

🌹16. Parcham khuda ke deen ka karbal me gaadne
Shabbir aagaye hai alamdar chahiye

🌹17. Batil khayal sar na uthaye isi liye
Zeeshan tujh ko lafzo ki talwaar chahiye

✍ zeeshan aazmi

Friday, May 6, 2016

Rahega hashr tak islaam par imran ka saya

🌹1. Muhammad par hamesha se raha imran ka saya
Khuda jaane abu talib tere imaan ka saya

🌹2. Yateeme me nabi ki parwarish kuchh is tarah ki hai.
Abu talib ka saya jaise ho yazdaan ka saya

🌹3. Saja do kaabe ki deewar ko mahmaa'n nawazi me
Abutalib ke ghar me aa gaya mahman ka saya

🌹4. Abu talib ke bismillah par dunya na hyrat kar
Bahut pahle se un ke ghar me hy quraan ka saya

🌹5. Nahi qur'aan ki hoti tilaavat jiske ghar me bhi.
Hai us ghar ki daro deevaar par shaytaan ka saaya

🌹6. Karega qatl kya koyee, munafiq ya ke mushrik ho
Ali ke saath me hy saaheb e qurban ka saya

🌹7. Raha shebe abu talib me bhi roshan tera imaa'n
Sabhi ke wasate tu ban ke tha faizaan ka saya

🌹8. Khuda ka hukm hijrat ke liye tab aa gaya fauran
Jaha se uth gaya jab paikar e paimaan ka saya

🌹9. Waliy e gulshan e dee'n ne shajar barah diye hum ko
Rahega hashr tak islaam par imran ka saya

🌹10. Tabarruk bant tey hy isliye mahe muharram me
Zahan me hy khadija ke namak aur naan ka saya

🌹11. Khuda se ilteja itni hai yeh zeeshan ki aakhir
Rahe maa baap ka saya rahe rahman ka saya

✍ zeeshan aazmi

Wednesday, May 4, 2016

Murtuza ke Shadi ka sahra


1.Panjatan ke noor ki jalwagari sahre me hy
ho mubarak sura-e-kausar gundhi sahre me hy

2.gar chupa hy laadla firdaus ka sahre me to
ruh bhi shamshul hasan ki aa chupi sahre me hy

3.kiyo na mahke aaj sahra murtuza ka dosto
zindagi bhar ki dua maa baap ki sahre me hy

4. Ay Khuda Aulaad E Swaleh Tu Ata Karna Ise
Murtuza Ke Baagh Ki Taaza Kali Sahre Me Hy

5. Har Ladi Ki Gaath Me Hy Dada Kausar Ki Dua
Jannat-E-Firdaus Ki Jalwagari Sahre Me Hy

6.Ho Mubarak Altamas, Hashim, Zaman Tauseef Ko
Bhai Unka Nisf Imaa'N Ka Dhani Sahre Me Hy

7.Khush Nazar Aate Zamanat Aur Kumail Aur Ashal
Bhaiyo Ki Shadmani Aur Khushi Sahre Me Hy

8.Kiyo Na Khushiya Yeh Manaye Do Bahan Noor O Ijaaz
dono pyari bahno ki khushya isi sahre me hy

9.Aaj Dene Ko Mubarak Aayen Hy Rishtedaar Bhi
Aarzo Sardaar Ki Dekho Saji Sahre Me Hy

10.Sar Parastiy-E-Imam-E-Waqt Me Hoga Nikha
har kali ki isliye pakeezgi sahre me hy

11.Ho Mubarak Aaj Ke Din Murtuza Dulha Bane
teesari shaban ki dohri khushi sahre me hy

12.Murtuza Dulha Bana Hy Aur Saba Dulhan Bani
Marhaba Kya Khoob Jodi Ye Bandhi Sahre My Hy

13.Kush Nazar Aate Hai Mehdi, Zulfikar Aur Iftekhar
Aur khushi dekho nazar abbas ki sahre me hy

14.Pyar Se Beti Ko Palko Par Rakha Tha Baap Ne
Ab Hasan Abbas Ki Aankhein Jami Sahre Me Hy

15.Kis Qadar Doobe Hy Gam Me Dono Salmano Shameem
aaj naazo se pali ki rukhsati sahre me hy

16. Jaan le jo hai kunware, murtuza ko dekh kar
khush naseeb insan ki zinda dili sahre me hy

17. hai dua zeeshan o ahsan ki khuda se aaj bhi
yeh mahakti hi rahe jo taazgi sahre me hy

✍ zeeshan aazmi