Wednesday, December 28, 2016

یہ آسمان سے کہدو نہ سر اٹھا کے چلے

*یہ آسمان سے کہدو نہ سر اٹھا کے چلے*

خدا کے دیں کے لئے سب ہی سر کٹا کے چلے
  وہ کربلا کے مجاہد تھے حق بتا کے چلے

زباں پہ میری بھلا کیوں نہ نامِ حیدر ہو
قدم قدم پہ علی ساتھ مصطفی کے چلے

بتا دیا کہ ہدایت کا راستہ ہے یہی
حسین نیزے پہ قرآن کو سنا کے چلے

پسند کرتا نہیں ہے خدا کسی کی انا
یہ آسمان سے کہدو نہ سر اٹھا کے چلے

ذرا بھی فرق کسی بھی نبی میں کیسے کروں
جہاں سے عہدِ خدا کو نبی نبھا کے چلے

حسینیت کا نشاں ہے علم دلاور کا
زمانہ پیچھے ہو ذیشان گر اٹھا کے چلے

✍ ذیشان آعظمی

Saturday, December 17, 2016

صادق کا ذکر بزم رسالت میں کیجئے

*صادق کا ذکر بزم رسالت میں کیجئے*

باتیں ہمیشہ لہجۂ مثبت میں کیجئے
علم و ہنر کو عام طہارت میں کیجئے

رکھتے ہوئے خیال عزادارو قوم کا
دل جو کرے تمہارا عقیدت میں کیجئے

دوہری خوشی ملی ہمیں بعدِ غمِ حسین
اظہار اس خوشی کا شرافت میں کیجئے

گر جاننی ہو تم کو فضیلت امام کی
صادق کا ذکر بزم رسالت میں کیجئے

یہ درس دے گیا ہمیں اخلاقِ مصطفے
لوگوں سے بات چیت محبت میں کیجئے

طعنہ نہ دو کسی کو یہ قولِ رسول ہے
اس کو بیان لوگوں کی خدمت میں کیجئے

ذیشان حُسنِ مصطفے جو ہے خیال میں
اس ذکر کا بیان کتابت میں کیجئے

✍ذیشان آعظمی