Wednesday, December 28, 2016

یہ آسمان سے کہدو نہ سر اٹھا کے چلے

*یہ آسمان سے کہدو نہ سر اٹھا کے چلے*

خدا کے دیں کے لئے سب ہی سر کٹا کے چلے
  وہ کربلا کے مجاہد تھے حق بتا کے چلے

زباں پہ میری بھلا کیوں نہ نامِ حیدر ہو
قدم قدم پہ علی ساتھ مصطفی کے چلے

بتا دیا کہ ہدایت کا راستہ ہے یہی
حسین نیزے پہ قرآن کو سنا کے چلے

پسند کرتا نہیں ہے خدا کسی کی انا
یہ آسمان سے کہدو نہ سر اٹھا کے چلے

ذرا بھی فرق کسی بھی نبی میں کیسے کروں
جہاں سے عہدِ خدا کو نبی نبھا کے چلے

حسینیت کا نشاں ہے علم دلاور کا
زمانہ پیچھے ہو ذیشان گر اٹھا کے چلے

✍ ذیشان آعظمی

No comments:

Post a Comment

Your comments are appreciated and helpful. Please give your feedback in brief.