Sunday, May 14, 2017

Yeh sadaqat hai ke tohmat barmala Abbas par

Yeh sadaqat hai ke tohmat barmala Abbas par

Hai fida alfaaz jaane fatimah Abbas par
Naaz karti hai wafa bhi ba wafa Abbas par

Shaayer e batil jo kahte hai wafao ka khuda
Yeh sadaqat hai ke tohmat barmala Abbas par

Alqama se khaime tak paani na pohcha saka jari
Kitna mushkil haaye guzra marhala Abbas par

Karbala ke baad zahir hogaya yeh raaz bhi
Zeb deta hai bahot isme wafa Abbas par

Dekhti duniya yeh manzar, izn sheh dete agar
Aik bhi hamla na karta ba khuda Abbas par

Aakhari dam tak uthaya parcham e islam ko
Kiyo na ho qurban phir dee'n ka lewa Abbas par

Baazo-e-shabbir hai aur Bibi Zainab ki rida
Kyo'n na aakhir muftakhir ho'n sayyeda Abbas par

Jaa'n fida karne ko maula shah par tayyar hai
Kiyo na ho Zeeshan har lamha fida Abbas par

✍ Zeeshan Azmi

*نصیری کا خدا… موذی و قبیح لقب*
پیغمبر نوگانوی
لغت میں لقب اُس نام کو کہتے ہیں جو مدح یا مذمت پر دلالت کرتاہے ، جو افراد اپنے کردار میں پست ہوتے ہیں عموماً اُن کے لقب اُن کی پستی اور مذمت کو بیان کرتے ہیں ، اور شرفاء اور بافضیلت لوگوں کے لقب اُن کی مدح و فضیلت کو بیان  کرتے ہیں ، ائمہ معصومین (ع) کے بھی مدحیہ القاب موجود ہیں جن سے  اُن کی بزرگی، شرافت ، فضیلت اور احترام ظاہر ہوتا ہے ، اگر معصوم (ع) کے لئے کوئی لقب وضع کیا جاتا ہے تو وہ نہایت مناسب اور فضیلت و کمالات کو بیان کرنے والا ہوتا ہے ، جس میں کوئی نہ کوئی تاریخی کرامت و فضیلت بھی پوشیدہ ہوتی ہے ،لیکن افسوس! ہمارے یہاں بعض لوگوں نے امام اول کے لئے ایک ایسا لقب ایجاد کیا ہے جو نہایت غیر مناسب ، غیر محترم، قبیح اور امام (ع) کو اذیت پہنچانے والا ہے اور وہ ہے امام علی (ع)کو *’’ نصیری کا خدا ‘‘* کہنا ، اگر چہ یہ لقب فرطِ محبت میں ایجادکیا گیا ہے ،لیکن ہے موذی! اس لقب کو وضع کرنے والے اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ لقب امام (ع) کو اذیت پہنچاتا ہے ورنہ بھلا کون شیعہ ایسا ہوگا جو عمداً ایسا کام کرے جس سے اُس کے امام کو تکلیف پہنچتی ہو ! اسی بے خبری کے عالم میں  ہمارے بعض خطیب اور شعرا ٔنے منفور نصیریوں کو *’’محب علی (ع) کے آئیڈیل‘‘* کے طور پر پیش کردیا ، جبکہ شیعیت کو نقصان پہنچانے والے گروہوں میں نصیریت سر فہرست ہے، وہ گروہ جو شیعیت کے اعلانیہ دشمن ہیں اُن سے دفاع بہت آسان ہے ،لیکن یہ  دشمن گروہ (نصیری) ، جو محبت علی (ع) کا چولا پہن کر عوام کو دھوکہ دیتا ہے اِس سے مقابلہ  بہت مشکل کام  ہے۔
  ہمارے یہاں یہ سمجھا جاتا ہے  کہ نصیری گروہ ،امام علی (ع) کے زمانہ میں رونما ہوا اور یہ لوگ امام علی (ع) کو خدا کہنے لگے تھے ، جب کہ تاریخی حقیقت اس کے برخلاف ہے ،اگر ایسا ہوتا تو بنی امیہ اس گروہ کو ہاتھوں ہاتھ لے لیتے اور خوب حمایت کرتے اوراسی طرح سیاسی فائدہ اٹھاتے جس طر ح مرجئہ فرقہ کی حمایت سے فائدہ اٹھایا، لیکن کوئی واقعہ اس طرح کا تاریخ کے دامن میں موجود نہیں ہے …تاریخی شواہد اس بات پر دلالت کرتے ہیںکہ نصیریوں کا گروہ امام علی (ع) کے زمانہ میں نہیں بلکہ نویں امام محمد تقی (ع) کے زمانے میں رونما ہوا ، نصیری گروہ کا موجد محمد بن نصیر نمیری (وفات 270ھ) تھا ، اس نے اپنے ارد گرد کچھ افراد اکٹھا کرلئے تھے جو نصیری کہلائے اور یہ لوگ محمد بن نصیر کی رسالت کے قائل ہوگئے اور یہ بھی دعویٰ کرنے لگے کہ محمد بن نصیر نبی و رسول ہے اور اس کو امام محمد تقی (ع) نے رسالت بخشی ہے اور اس طرح یہ گروہ امام محمد تقی علیہ السلام کو خدا ماننے لگا ، امیرالمومنین امام علی(ع) کے بارے میں بھی یہ گروہ تناسخ کا قائل تھا اورغلو کرتا تھا اوراس بات کا بھی دعویٰ کرتا تھا کہ امیرالمومنین علی (ع) میں ربوبیت پائی جاتی ہے ۔ (رجال کشی ، صفحہ 521,نمبر 1000)
محمد بن نصیر کے زندیق اور فاسق ہونے پر کیا اس سے بھی صریحی کوئی گواہی ہو سکتی ہے؟ نہیں ! بات یہیں پر تمام نہیں ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ :محمد بن نصیر ،محارم (ماں ، بہن، پھوپھی وغیرہ) سے شادی کو جائز سمجھتا تھا ، ہم جنس پرستی کا قائل تھا یعنی مرد سے مرد کی شادی کو جائز جانتا تھا، وہ یہ بھی کہتا تھاکہ لذت میں فاعل و مفعول ایک ہی ہیں اور خدا نے ان میں سے کسی ایک کو بھی حرام قرار نہیں دیا ہے۔ (رجال کشی ، صفحہ 521,نمبر 1000)
اس سے بھی بڑھ کریہ کہ محمد بن نصیراغلام بازی کو جائز سمجھتا تھا ، محمد بن موسیٰ بن حسن بن فرات کہتا ہے کہ بعض لوگوں نے محمد بن نصیر کو علی الاعلان اغلام بازی کی کیفیت میں دیکھا ، اس کے غلام نے اس فعل سے انکار کیا تو اس نے یہ نظریہ قائم کیا کہ یہ لذتوں میں سے ایک ہے ! یہ در حقیقت خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے اور جبر کو ختم کرنا ہے (رجال کشی ، صفحہ 521,نمبر 1000)
بنی امیہ کے زمانہ میں یزید ایسے ہی پلیدافعال انجام دیتا تھا ، جس کے خلاف نواسۂ رسول نے قیام فرمایا اور اپنی قیمتی قربانیاں دین کی راہ میں پیش کردیں ، جس کی یاد ہم ہر سال محرم میں برپا کرتے ہیں ، اب اگر انہی عقائد کا اظہار محمد بن نصیر نے کیا تو وہ یا اس کے پیروکار کس طرح قابل تذکرہ ہوگئے ؟! اور معصوم علی (ع) کو اِن زندیقوں سے نسبت کیوں دی جانے لگی؟ کیا امام علی (ع) اِن زندیقوں اور ملحدوں کا خدا کہے جانے پر خوش ہوں گے ؟ نہیں ! ہر گز نہیں،اور امام المتقین کو زندیقوں اور فاسقوں کا خدا کہنے میں کونسی اتنی بڑی فضیلت ہے؟ کیا کوئی شیعہ یہ گوارہ کرے گا کہ یزید کے پیروکاروں کی تعریف کرے؟ نہیں ! تو پھر نصیری ایسے ہی تو ہیں جیسے یزید کے پیروکار تھے ، نصیریوں کی تعریف کیوں بیان کی جاتی ہے ؟
جس طرح ائمہ اورعلماء اور تمام مسلمان یزید پر لعنت کرتے ہیں اسی طرح محمد بن نصیر پر ائمہ نے لعنت کی ہے اور اپنے شیعوں کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ اس پر لعنت کریں ،نصر بن صباح کہتے ہیں کہ: حسن بن محمد معروف بابن بابا، محمد بن نصیر نمیری، فارس بن حاتم قزوینی، ان تینوں پر امام علی نقی(ع) نے لعنت بھیجی ہے (رجال کشی ، صفحہ 521,نمبر 999)
سعد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبیدی نے بیان کیا کہ امام علی نقی (ع) نے ابتدائے دور میں میرے پاس ایک خط لکھا جس میں امام نے تحریر فرمایاکہ: میں فہری ، حسن بن محمد معروف بابن بابا قمی ان دونوں سے اظہارِ برائت کرتا ہوں ، لہٰذا تم بھی ان دونوں سے بیزار ہوجاؤ ، میں تم کو اور اپنے چاہنے والوں کو ان دونوں سے خبردار کرتا ہوں ، ان دونوں پر اللہ کی لعنت ہو ، یہ ہمارے نام پر لوگوں سے کھا رہے ہیں ، یہ دونوں اذیت دینے والے اور فتنہ پرور ہیں ، خدا ان دونوں کو اذیت دے، خدا ان دونوں کو فتنہ کی رسّی میں جکڑ دے ، ابن بابا (قمی) یہ خیال کرتا ہے کہ میں نے اس کو نبوت دی ہے اور وہ رئیس ہے اس پر خدا کی لعنت ہو ، شیطان نے اس کو مسخر کرکے اس کا اغوا کرلیا ہے ، اس پر بھی خدا کی لعنت ہوجو ان کی باتوں کو قبول کرے ۔
اے محمد ! اگر تم اس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ پتھر سے اس کا سر کچل دو تو ایسا کر گزرو کیونکہ اس نے مجھ کواذیت دی ہے ، خدا اس کو دنیا و آخرت میں اذیت دے ، (رجال کشی ، صفحہ 521,نمبر 999)
امام (ع) کے اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ شیعوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ اہل بیت (ع) کی تعریف کرنے والا ہر شخص ناجی نہیں ہو سکتا بلکہ پہلے عقیدہ توحید و رسالت مستحکم اور پاک و پاکیزہ ہونا چاہئے اس کے بعد ہی مولا کی محبت فائدہ پہنچا سکتی ہے ، یعنی علی (ع) سے محبت رکھنے کی بنیاد توحید و رسالت کا صحیح عقیدہ ہے ،اُس ظرف میں علی ؑکی محبت رہ ہی نہیں سکتی جو توحیدر اور رسالت کے عقیدے سے خالی ہو، جتنا عقیدہ ٔ توحید و رسالت مضبوط ہوگااتنا ہی انسان غلو سے محفوظ رہے گا ، غلو کا شکار وہی ہوتے ہیں جن کا عقیدۂ توحیدکمزور ہوتا ہے اور دلیل کے ذریعہ توحید خداوندی کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ، تمام انبیاء کی بعثت اور ائمہ (ع) کی امامت کا مقصد خدا وند عالم کی توحید کا استحکام ہے ، انبیاء اور ائمہ (ع) نے جتنی بھی تکلیفیں اور مصائب برداشت کئے ہیں وہ صرف توحید خداوندی کی بقا کی خاطر ہے ، جوبھی راسخ العقیدہ موحد و مومن ہوگا وہ اسی طرح غلو اور غالیوں منجملہ نصیریوں سے نفرت کرے گا جس طرح ائمہ معصومین (ع) نے کی ہے ، نصیریوں کے تئیں دل میں نرم گوشہ رکھنا یقینا عقیدۂ توحید میں کھوٹ کی علامت ہے ، لہٰذااگر ذرہ برابر بھی عقیدہ توحید و رسالت سست ہوجائے تو پھر وہی ہوتا ہے جو ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ  مدح اہل بیت (ع) کرتے وقت مزاج امامت کا خیال نہیں رکھاجاتا ، نصیریوں اور غالیوں سے امام معصوم (ع) کی اتنی سخت نفرین کے باوجود اپنے اشعار میں نصیریوں کا مدحیہ انداز میں تذکرہ کرنا اوران کے ذریعہ مولاکی مدح کرنا امام علیہ السلام کو کتنا رنجیدہ کرتا ہوگا ؟! جب امام ، نصیریوں سے ناراض ہیں تو پھر ہم کون ہوتے ہیں نصیریوں کو شاباشی دینے والے اور بالفرض اگر نصیریوں کا مولا کو رب سمجھنا اتنی بڑی فضیلت ہوتی تو کیا امام علی نقی (ع) و دیگر ائمہ (ع) اس فضیلت کو نہیں سمجھتے تھے ، کیا شاعر،امام علی نقی (ع) سے زیادہ امام علی (ع) سے محبت کرتے ہیں ؟ ایسا نہیں ہوسکتا ! محب اور شیعہ وہی کہلائے گا جو امام کو ناراض نہ کرے ، اور یہاں امام نے اتنی وضاحت سے نصیریوں سے اپنی ناراضگی اور نفرین کا اعلان کیا ہے اور اپنے شیعوں کو نصیریوں پر تبرے کا حکم دیا ہے لیکن پھر بھی بعض خطیب اور شاعر نصیریوں کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں ، ایسے شاعروں اور خطیبوں کے اس عمل سے امام علی نقی (ع) کتنا ناراض ہوتے ہوں گے ؟ جو جتنا بڑا تبرائی ہوگا وہ حکم امام کے مطابق اتنا ہی نصیریوں پر تبرا کرے گااوران سے نفرت کرے گا ، نہ یہ کہ انہیں اپنے مدحیہ کلام میں ہیرو کے طور پر پیش کرے اوراپنے معصوم و مہربان امام (ع) کو’’نصیری کا خدا‘‘ کہہ کر ناراض کرے ! ایسا لقب اگر ہم اپنے سماج میں کسی انسان کو دیں جس سے اُس کو اذیت پہنچتی ہو تو اسلام نے منع کیا ہے ، قرآن مجیدکے سورہ حجرات کی گیارہویں آیت میں سختی سے روکا گیا ہے ، جب عام انسانوں کے لئے برے القاب سے یاد نہ کرنے کی قرآن مجید کی یہ تاکید ہے تو پھر مولائے کائنات ! جن کے فضائل قرآن کریم میں جا بجا موجود ہیں اور جن کی عظمتیں بے شمار ہیں ، ہم انہیں ایک قبیح اور موذی لقب *’’ نصیری کا خدا‘‘* سے کیوں یاد کرتے ہیں ؟
، ہماری جرأتیں دیکھئے ! جس گروہ کے بارے میں ائمہ (ع) اپنے غضب کا اظہار فرمائیں اسی کو ہم لائق تذکرہ سمجھیں اور اسی سے اپنے معصوم(ع) امام کو نسبت دیں !؟ جبکہ امام علیہ السلام *’’ خدا کا بندہ ‘‘* ہونے پر فخر کرتے ہیں اور اس بندگی کو اپنی عزت کے لئے کافی سمجھتے ہیں ۔
یاد رکھیئے ! نصیریوں کے تذکرے اور ان سے نسبت دینے پر امام معصوم (ع) رنجیدہ ہوتے ہیں ، اور کوئی بھی شیعہ یہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ اپنے امام کو رنجیدہ کرے ،لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنے امام کو  ناراض نہ ہونے دیں اور  اپنی نظموں اور نثر میں نصیریوں کے تذکرے اور اس موذی لقب سے پرہیز کریں  کیونکہ نصیریوں سے ائمہ نفرت کرتے ہیں اور یہ شیعیت کے دشمن ہیں ۔

No comments:

Post a Comment

Your comments are appreciated and helpful. Please give your feedback in brief.