Monday, September 18, 2017

پہچان بناتا ہے ہر اک شخص ہنر سے

موج سخن ادبی فورم کے ۲۰۴ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱۶ ستمبر ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی

آواز اٹھاتے نہیں سرکار کے ڈر سے
ہراک پریشاں ہے سیاست کے اثر سے

اس دور میں عزت کہاں ہوتی ہے کسی کی
مہمان اگر آئے کوئی دور صفر سے

اس کے ہی شکنجے میں گرفتار ہیں سارے
وہ کون ہے بچ جائے جو شیطان کے شر سے

آسانی سے ملتی نہیں منزل کبھی بھوندو
پہچان بناتا ہے ہر اک شخص ہنر سے

خاندان ملا کرتے تھے آپس میں مگر اب
اک رسم تعلق ہی چلے خیر و خبر سے

اک دو نہیں گھائل یہاں بہتات ہوئے ہیں
ذیشان بچا کون ہے عورت کی نظر سے

✍ ذیشان آعظمی

No comments:

Post a Comment

Your comments are appreciated and helpful. Please give your feedback in brief.