Monday, September 18, 2017

وہ بچھڑ جائیگی مجھ سے کبھی سوچا ہی نہ تھا

دیا عالمی آن لائن طرحی مشاعرہ میں میری ادنٰی سی کاوش

دور ہونے کا اسے تھوڑا بھی صدمہ ہی نہ تھا
وہ بچھڑ جائیگی مجھ سے کبھی سوچا ہی نہ تھا

خوشنما زندگی اپنی بھی یہاں ہوتی مگر
بن ترے جینے کا دنیا میں سہارا ہی نہ تھا

مذہب و ذات کی دیوار نے تقسیم کیا
ہم تھے ناداں کبھی دستور کو جانا ہی نہ تھا

اس کی الفت نے پلایا تھا مجھے جامِ وفا
پھر نشا ایسا چڑھا یاروں اترتا ہی نہ تھا

اس کی امید میں آنکھوں سے مری نکلا نہ ہو
جسم میں ایسا کوئی خون کا قطرہ ہی نہ تھا

دلربا مری تھی ذیشان وہ ہوتی نہ خفا
مجھ میں افسوس منانے کا سلیقہ ہی نہ تھا

✍ ذیشان آعظمی

No comments:

Post a Comment

Your comments are appreciated and helpful. Please give your feedback in brief.