Monday, September 18, 2017

آج جو انگیاں اٹھاتے ہیں

ضمیر فروش مولوی نما جاہل

بات مطلب کی ہی سناتے ہیں
مولوی داستاں بناتے ہیں

مال و دولت کمانے کی خاطر
حق بات کیوں چھپاتے ہیں

ذکر قرآن کا وہ کرتے نہیں
بے تکی شاعری سناتے ہیں

علم سے کوسوں دور ہیں دیکھو
آج جو انگیاں اٹھاتے ہیں

داد مجمع کی پانے منمر سے
رٹ کے اپنا سبق وہ آتے ہیں

فرقہ وارانہ ذکر کر کر کے
اپنی ہی قوم میں آگ لگاتے ہیں

یہ ادا بھی عجیب ہیں ان کی
آیتیں بیچ کر کماتے ہیں

تانا بانا بناکے باطل کا
جال شیطان کا بچھاتے ہیں

آئینہ حق کا سامنے رکھ کر
وہ برائی کو سجاتے ہیں

ان سے کوئی سوال پوچھے تو
دم دبا کر وہ بھاگ جاتے ہیں

دیکھ ذیشان بیچ کر ایماں
وہ جہنم میں گھر بناتے ہیں

✍ ذیشان آعظمی

No comments:

Post a Comment

Your comments are appreciated and helpful. Please give your feedback in brief.