Monday, September 18, 2017

کل کے حسین خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

بیکار انتخاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں
اس کی نہ تھی جواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

دل توڑ کر چلی گئی پھر میری دلربا
کل کے حسین خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

وہ ساتھ بیٹھتی تھی تو پڑھنے میں تھا مزا
رکھّا ہوا کتاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

آنکھوں میں پڑھتے رہتے تھے ہم عشق کا سبق
وہ عاشقی کے باب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

مدت کے بعد اس کے لئے دل نے یہ کہا
سوکھے ہوئے گلاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

پہلے تو آئینہ تھا وہ محبوب کا میرے
ذیشان ماہتاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

✍ ذیشان آعظمی

No comments:

Post a Comment

Your comments are appreciated and helpful. Please give your feedback in brief.