Saturday, September 16, 2017

دیدی ہے ہم نے جاں بھی ظالم تری گلی میں

ایسی سزا ملی ہے مجھکو بھی دل لگی میں
خود کو مٹا چکا ہوں دلبر کی عاشقی میں

فرقت مرے صنم کی دن رات ہے ستائے
ملتا نہیں سکونِ دل مجھکو زندگی میں

آ دیکھ حال میرا فرقت میں کیا ہوا ہے
اب نور بھی نہیں ہے آنکھوں کی روشنی میں

محسوس ہو گیا ہے مدت کے بعد مجھکو
اندازِ بے رخی ہے دلبر کی سادگی میں

اس بات کی تو روز محشر گواہی دینا
دیدی ہے ہم نے جاں بھی ظالم تری گلی میں

کیا سوچ کر غزل تو لکھتا ہے بار بار
ذیشان کیا سکون ملتا ہے شاعری میں

✍ ذیشان آعظمی

No comments:

Post a Comment

Your comments are appreciated and helpful. Please give your feedback in brief.