Monday, October 2, 2017

Jab Sakina sa huwee gham zada ye jaha muh dekhata rah gaya

شہ کا مقتل میں جب سر کٹا، یہ جہاں منہ دیکھتا رہ گیا
جب سکینہ ہوئی غم زدہ، یہ جہاں منہ دیکھتا رہ گیا

اے پھوپھی میرا اصغر کہاں، اور بھائی وہ اکبر کہاں
تھی سکینہ کے لب پر صدا، یہ جہاں منہ دیکھتا رہ گیا

ہاتھ رکھتا نہ سر پر کوئی، جب سکینہ یتیمہ ہوئی
یہ سکینہ کی پہلی قضا، یہ جہاں منہ دیکھتا رہ گیا

باپ کی یاد میں جاگتی، یہ محبت تو ہے فطرتی
بابا اس کا جو مارا گیا، یہ جہاں منہ دیکھتا رہ گیا

جس کا کرتا تھا اک قیمتی، جس کے تھی نور سے روشنی
وہ سکینہ کا دامن جلا، یہ جہاں منہ دیکھتا رہ گیا

گوشوارے سکینہ کے جب، کھینچ ڈالا لعیں بے ادب
کانوں سے خون تب تھے روا، یہ جہاں منہ دیکھتا رہ گیا

کیسے ذیشان ہوگا بیاں، غم سے نکلی سکینہ کی جاں
اس کا زندان میں گھر بنا، یہ جہاں منہ دیکھتا رہ گیا

✍ ذیشان آعظمی

No comments:

Post a Comment

Your comments are appreciated and helpful. Please give your feedback in brief.